نئی دہلی،13؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے لڑاکا طیارے رافیل کی خریداری کے لئے فرانس کی حکومت کے ساتھ ہوئے دو طرفہ قرارداد میں وزیر اعظم نریندر مودی پر قومی مفادات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔یچوری نے رافیل سودے سے منسلک نجی شعبے کے فریق صنعتکار انیل امبانی کو فرانس حکومت کی طرف سے 143.7 ملین یورو ٹیکس چھوٹ دینے سے متعلق میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے آج کہا کہ پبلک سیکٹر کی کمپنی ایچ اے ایل کو رافیل سودے سے باہر کر امبانی کو عہد نامہ میں شامل کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ مودی فرانس گئے ، لڑاکا طیاروں کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر قومی مفادات سے سمجھوتہ کیا۔ایچ اے ایل کو قرار سے باہررکھ کر امبانی کو سودے کا حصہ بنایا۔یچوری نے کہا کہ عوام کے پیسے سے کم تعداد میں 41 فیصد زیادہ قیمت پر ہوائی جہاز خریدنے کا معاہدہ کر کے اپنے قریبی لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دلائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی کا فارمولا اپنے امیر دوستوں کی مدد کرنا ہے۔گڑبڑی کے پورے نظام کا انکشاف ہو گیا ہے۔رافیل گھوٹالے میں ایئر فورس کو درکنار کرکے وزیر اعظم کے دفتر براہ راست طور پر شامل ہے اور قومی سلامتی کے مشیر غیر قانونی طریقے سے پیرس میں مذاکرات کر رہے تھے۔یچوری نے کہا کہ فرانس کے صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مودی نے امبانی کو اس عہد نامہ میں پارٹنر بنانے کیلئے کہا تھا اور اب فرانس حکومت کی طرف سے امبانی کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا بھی انکشاف ہو گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ فرانس کے ایک اخبار میں شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی کی طرف سے فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدنے کا اعلان کرنے کے چند ماہ بعد ہی فرانس حکومت نے امبانی کی ایک فرانسیسی کمپنی کو ٹیکس میں 143.7 ملین یورو کی چھوٹ دی تھی۔